مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 24592
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى، فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى، وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ، فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ، وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ لَا يَقِفُ عِنْدَهَا" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری دن ظہر کی نماز پڑھ کر واپس منیٰ کی طرف روانہ ہوتے اور ایام تشریق وہیں گذارے، زوال شمس کے بعد جمرات کی رمی فرماتے تھے، ہر جمرے کو سات کنکریاں مارتے تھے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے تھے اور جمرہ اولیٰ اور جمرہ ثانیہ کی رمی کر کے رک جاتے تھے اور کافی دیر کھڑے رہ کر دعائیں کرتے تھے، لیکن تیسرے جمرے کی رمی کے بعد نہیں رکتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24592]
حکم دارالسلام: حديث حسن
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق