🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24654
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْءَبِ، سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَنَا: " أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْءَبِ؟" فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ؟! عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ .
قیس کہتے ہیں کہ جب عائشہ صدیقہ رات کے وقت بنو عامر کے چشموں کے قریب پہنچیں تو وہاں کتے بھونکنے لگے، حضرت عائشہ نے پوچھا یہ کون ساچشمہ ہے؟ لوگوں نے بتایا مقام حوأب کا چشمہ، اس کا نام سنتے ہی انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اب میں یہیں سے واپس جاؤں گی، ان کے کسی ہمرا ہی نے کہا کہ آپ چلتی رہیں، مسلمان آپ کو دیکھیں گے تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ان کے درمیان صلح کر وادے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا تم میں سے ایک عورت کی اس وقت کیا کیفیت ہوگی جس پر مقام حوأب کے کتے بھونکیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24654]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
مسند احمد کی حدیث نمبر 24654 کے فوائد و مسائل
الشيخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری، مسند احمد 24654
یہ روایت دو صحابہ سے مروی ہے، دونوں روایتیں ہی منکر (ضعیف) ہیں۔ عللِ حدیث کے ماہر ائمہ کی یہی تحقیق ہے۔
حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا
❀ قیس بن ابو حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ، بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا؛ نَبَحَتِ الْكِلَابُ، قَالَتْ: أَيُّ مَاءٍ هَذَا؟ قَالُوا: مَاءُ الْحَوْأَبِ، قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا: بَلْ تَقْدَمِينَ، فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ، فَيُصْلِحُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ: كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ، تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْابِ؟»
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور رات کے وقت بنو عامر کے پانی پر پہنچیں، تو ان پر کتے بھونکنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے استفسار فرمایا: یہ کون سا پانی ہے؟ بتایا گیا: یہ حواب کا کنواں ہے۔ فرمایا: میرے خیال میں مجھے یہیں سے واپس جانا چاہیے۔ آپ کے ساتھ لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: نہیں، آپ آگے تشریف لائیں تاکہ مسلمان آپ کو دیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مابین صلح کرا دے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ازواجِ مطہرات کو) فرمایا تھا: تم میں سے کسی ایک کا کیا حال ہو گا، جب اس پر حواب کے کتے بھونکیں گے!۔
[مسند الإمام أحمد: 52/6، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 120/3، دلائل النبوة للبيهقي: 410/6-411]
◈ اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ [6732] نے صحیح قرار دیا ہے۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذَا حَدِيثُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .»
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [سیر أعلام النبلاء: 178/2]
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذَا إِسْنَادٌ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحَيْنِ .»
یہ سند صحیح بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔ [البداية والنهاية: 211/6-212]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«سَنَدُهُ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ .»
اس کی سند صحیح بخاری کی شرط پر ہے۔ [فتح الباري: 15/13]
◈ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
◈ علامہ ابن دحیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هُوَ أَشْهَرٌ مِّنْ فَلَقِ الصُّبْح .»
یہ حدیث روشن صبح سے زیادہ مشہور ہے۔ [مناهل الصفا: 748]
[حياة الحيوان الكبرى للدميري: 286/1] میں یہ الفاظ بھی ہیں:
«إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْابِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: «أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ؟» ، فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ؟ عَسَى اللَّه عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ .»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: جب وہ حواب کے مقام پر آئیں تو انہوں نے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی اور کہا: میرے خیال میں مجھے واپس ہی جانا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: آپ میں سے کون ہے، جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے؟ اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا: کیا آپ واپس جائیں گی؟ شاید کہ اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے لوگوں کے مابین صلح کرا دے۔
[مسند الإمام أحمد: 97/6، دلائل النبوة للبيهقي: 410/6]
جائزہ:
➊ یہ حدیث منکر ہے۔ یہ قیس بن ابی حازم کی منکر روایات میں سے ہے۔
◈ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
«شَهِدَ الجَمَلَ قَالَ: لا .»
کیا قیس بن ابی حازم جنگ جمل میں شریک تھے؟ فرمایا: نہیں۔ [العلل، ص: 50]
◈ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ يَحْيَى أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ، مِنْهَا حَدِيثُ كِلَابِ الْحَوْأَبِ.»
مجھے امام یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ نے بتایا کہ قیس بن ابو حازم منکر الحدیث ہے، پھر انہوں نے قیس کی کئی منکر احادیث بھی بیان کیں۔ حواب مقام کے کتوں والی حدیث بھی ان میں شامل تھی۔
[تاريخ ابن عساكر: 464/49، وسنده صحيح]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ [المغنی: 526/2] کا اس حدیث کو ثابت قرار دینا متقدم امام کے مقابلہ میں قبول نہیں۔
------------------

حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
«قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِنِسَائِهِ: لَيْتَ شَعْرِي، أَيَّتُكُنَّ صَاحِبَةُ الْجَمَلِ الْأَدْبَبِ، تَخْرُجُ كِلابُ حَوْأَبٍ، فَيُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا، وعَن يَسَارِهَا قَتْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ تَنْجُو بَعْدَ مَا كَادَتْ»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات سے فرمایا: کاش! مجھے معلوم ہو کہ تم میں سے کون چہرے کے زیادہ بالوں والے اونٹ پر سوار ہوگی۔ حواب کے کتے نکلیں گے اور اس کے دائیں بائیں بہت زیادہ قتل و غارت ہو گی۔ پھر وہ بال بال بچ جائے گی۔ [مسند البزار [كشف الأستار] : 3273]
◈ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
«تُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَتْلَى كَثِيرةٌ.»
اس کے دائیں اور بائیں بہت سے لوگ قتل کیے جائیں گے۔ [مسند البزار [كشف الأستار] : 3273]
جائزہ:
➊ یہ حدیث منکر ہے۔
◈ امام ابو حاتم اور امام ابو زرعہ رحمہما اللہ نے اس حدیث کو منکر کہا ہے۔ [علل الحديث لابن أبي حاتم: 590/6، ح: 2787]
◈ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
«لَا يُرْوى مِنْ طَرِيقِ غَيْرِه .»
اس سند کے علاوہ اسے روایت نہیں کیا گیا۔ [علل الحديث لابن أبي حاتم: 590/6، ح: 2787]
➋ اس کی ایک ہی سند ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
مقام حواب پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کتوں کے بھونکنے والی حدیث منکر ہے۔ بعض لوگ اس منکر روایت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظمت کے خلاف پیش کرتے ہیں۔ ان کی یہ روش سراسر غلط ہے۔
[ماہنامہ السنہ جہلم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Musnad Ahmad Hadith 24654 in Urdu