مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 25255
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: " مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبُكُمْ، وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ، وَتَسْتَنْصِرُونِي، فَلَا أَنْصُرُكُمْ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں کچھ گھٹن ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے بات کئے بغیر واپس چلے گئے، میں نے حجروں کے قریب ہو کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے لوگو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم مجھے پکارو اور میں تمہاری دعائیں قبول نہ کروں، تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد مانگو تو میں تمہاری مدد نہ کروں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25255]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عاصم بن عمر، الصحيح فى عثمان بن عمرو، عمرو بن عثمان بن هاني
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق