مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 25797
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَدْعُو لَكَ عَلِيًّا؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَت: أَرْسَلْنَا إِلَى عُثْمَانَ فَجَاءَ، فَخَلَا بِهِ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے پاس بلاؤ، میں نے عرض کیا ابوبکر کو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، میں نے عرض کیا عمر کو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، میں نے عرض کیا علی کو؟ وہ پھر خاموش رہے، میں نے عرض کیا عثمان کو بلاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! جب وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہاں سے ہٹ جانے کے لئے فرمایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدلتا رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25797]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
قيس بن أبي حازم البجلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق