علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 26344
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ , فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ , فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ؟" قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ الْعَامَ , قَالَ:" لَعَلَّكِ نَفِسْتِ" يَعْنِي حِضْتِ , قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي" , فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً" , فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ , وَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ , قَالَتْ: ثُمَّ رَاحُوا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهُرْتُ , فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ فَأَفَضْتُ , يَعْنِي طُفْتُ , قَالَتْ فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ , فَقُلْتُ مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ , قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ , فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ , فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ , قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ , أَنِّي أَنْعَسُ , فَتَضْرِبُ وَجْهِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ , حَتَّى جَاءَ بِي التَّنْعِيمَ , فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ جَزَاءً لِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میری سہیلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26344]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 305، م: 1211
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 26344 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق