مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1185. حديث أم الفضل بن عباس وهى أخت ميمونة رضي الله عنهم
حدیث نمبر: 26874
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ , وَيُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَشْتَكِي، فَتَمَنَّى الْمَوْتَ، فَقَالَ:" يَا عَبَّاسُ , يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ , لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا، فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَيْرٌ لَكَ، فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ" , قَالَ يُونُسُ:" وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا، فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ".
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت عباس کی عیادت کے لئے تشریف لائے وہ بیمار تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موت کی تمنا کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عباس! اے پیغمبر اللہ کے چچا! موت کی تمنا نہ کریں اس لئے کہ اگر آپ نیکو کار ہیں تو آپ کی نیکیوں میں اضافہ ہونا آپ کے حق میں بہتر ہے اور اگر آپ گنہگار ہیں اور آپ کو توبہ کی مہلت دی جا رہی ہو تو یہ بھی آپ کے حق میں بہتر ہے اس لئے موت کی تمنانہ کیا کریں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26874]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة هند بنت الحارث
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 26874 in Urdu
هند بنت الحارث الفراسية ← لبابة بنت الحارث الهلالية