مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1185. حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَهِيَ أُخْتُ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
حدیث نمبر: 26868
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ ب الْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورة مرسلات کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26868]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4429، م: 462
حدیث نمبر: 26869
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، أُتِيَ بِرُمَّانٍ، فَأَكَلَهُ، وَقَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، أَتَتْهُ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ" .
حضرت ابن عباس کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے میدان عرفہ میں روزہ نہ رکھنے کا اظہار اس طرح کیا کہ ان کے پاس ایک انار لایا گیا جو انہوں نے کھالیا اور فرمایا کہ مجھے (میری والدہ) حضرت ام الفضل نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا تھا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ لے کر حاضر ہوئی تھیں جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26869]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
حدیث نمبر: 26870
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ عَبَّاسٍ، وَهِيَ فَوْقَ الْفَطِيمِ، قَالَتْ: فَقَالَ: " لَئِنْ بَلَغَتْ بُنَيَّةُ الْعَبَّاسِ هَذِهِ وَأَنَا حَيٌّ، لَأَتَزَوَّجَنَّهَا" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیب بنت عباس کو دیکھا، اس وقت وہ دودھ پیتی بچی سے کچھ بڑی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر عباس کی یہ بیٹی میری زندگی میں جوان ہوگئی تو میں اس سے شادی کرلوں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26870]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حسين بن عبدالله
حدیث نمبر: 26871
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبِ الْمَغْرِبِ، فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلَّى صَلَاةً بَعْدَهَا , حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپیٹ کر مغرب کی نماز پڑھائی اور اس میں سورت مرسلات کی تلاوت فرمائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھا سکے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26871]
حکم دارالسلام: هذا اسناد اخطا فيه موسي بن داود، فقولها: "صلي بنا رسول الله ﷺ فى بيته متوشحا فى ثوب" انما هو من حديث انس، واما حديث: "قرا رسول الله ﷺ فى المغرب..." فهو من حديث ام الفضل، وهذا الحديث صحيح
حدیث نمبر: 26872
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أُمِّ بَنِي الْعَبَّاسِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: " أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) عرفہ کے دن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک تھا حضرت ام الفضل نے فرمایا میں ابھی تمہیں معلوم کر کے بتاتی ہوں چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26872]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
حدیث نمبر: 26873
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ، فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً أُخْرَى، فَزَعَمَتْ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتْ امْرَأَتِي الْحُدْثَى إِمْلَاجَةً، أَوْ إِمْلَاجَتَيْنِ وَقَالَ مَرَّةً: رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ , فَقَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ، وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ" أَوْ قَالَ" الرَّضْعَةُ أَوْ الرَّضْعَتَانِ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے کہ ایک دیہاتی آگیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میری ایک بیوی تھی جس کی موجودگی میں، میں نے ایک اور عورت سے نکاح کرلیا لیکن میری پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے میری اس دوسری نئی بیوی کو ایک دو گھونٹ دودھ پلایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دو گھونٹ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26873]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1451
حدیث نمبر: 26874
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ , وَيُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَشْتَكِي، فَتَمَنَّى الْمَوْتَ، فَقَالَ:" يَا عَبَّاسُ , يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ , لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا، فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَيْرٌ لَكَ، فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ" , قَالَ يُونُسُ:" وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا، فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ".
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت عباس کی عیادت کے لئے تشریف لائے وہ بیمار تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موت کی تمنا کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عباس! اے پیغمبر اللہ کے چچا! موت کی تمنا نہ کریں اس لئے کہ اگر آپ نیکو کار ہیں تو آپ کی نیکیوں میں اضافہ ہونا آپ کے حق میں بہتر ہے اور اگر آپ گنہگار ہیں اور آپ کو توبہ کی مہلت دی جا رہی ہو تو یہ بھی آپ کے حق میں بہتر ہے اس لئے موت کی تمنانہ کیا کریں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26874]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة هند بنت الحارث
حدیث نمبر: 26875
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي بَيْتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَجَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ غُلَامًا، فَتَكْفُلِينَهُ بِلَبَنِ ابْنِكِ قُثَمٍ" , قَالَتْ: فَوَلَدَتْ حَسَنًا، فَأُعْطِيتُهُ، فَأَرْضَعْتُهُ حَتَّى تَحَرَّكَ أَوْ فَطَمْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسْتُهُ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ، فَضَرَبْتُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ:" ارْفُقِي بِابْنِي، رَحِمَكِ اللَّهُ أَوْ أَصْلَحَكِ اللَّهُ أَوْجَعْتِ ابْنِي" , قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اخْلَعْ إِزَارَكَ، وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ حَتَّى أَغْسِلَهُ، قَالَ: " إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عضو میرے گھر میں آگیا ہے، مجھے اس خواب سے بڑی پریشانی لاحق ہوئی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا خواب ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہ کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوگا اور تم اپنے بیٹے قثم کے ذریعے آنے والے دودھ سے اس کی بھی پرورش کرو گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت فاطمہ کے یہاں امام حسن پیدا ہوئے اور میں نے ہی انہیں دودھ پلایا یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے لگے اور میں نے ان کا دودھ چھڑادیا۔ پھر میں انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھادیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا یہ دیکھ کر میں نے ان کے کندھوں کے درمیان ہلکا سا ہاتھ مارا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے میرے بیٹے پر ترس کھاؤ! تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اپنی یہ چادر اتار دیں اور دوسرے کپڑے پہن لیں تاکہ میں اسے دھودوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھویا تو بچی کا پیشاب جاتا ہے، بچے کے پیشاب پر صرف چھینٹے مار لئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26875]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب
حدیث نمبر: 26876
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِ يَدِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، وَهِيَ أُمُّ وَلَدِ الْعَبَّاسِ أُخْتُ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلْتُ أَبْكِي، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ؟" , قُلْتُ: خِفْنَا عَلَيْكَ، وَمَا نَدْرِي مَا نَلْقَى مِنَ النَّاسِ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَنْتُمْ الْمُسْتَضْعَفُونَ بَعْدِي" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں ایک دن میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور رونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا کیوں روتی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کے متعلق (دنیا سے رخصتی کا اندیشہ ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کے بعد لوگوں کا ہمارے ساتھ کیسا رویہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم لوگ کمزور سمجھے جاؤ گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26876]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26877
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ لُبَابَةَ أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّهَا كَانَتْ تُرْضِعُ الْحَسَنَ أَوْ الْحُسَيْنَ , قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاضْطَجَعَ فِي مَكَانٍ مَرْشُوشٍ، فَوَضَعَهُ عَلَى بَطْنِهِ، فَبَالَ عَلَى بَطْنِهِ، فَرَأَيْتُ الْبَوْلَ يَسِيلُ عَلَى بَطْنِهِ، فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ لِأَصُبَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ الْفَضْلِ، إِنَّ بَوْلَ الْغُلَامِ يُصَبُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ، وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ" , وَقَالَ بَهْزٌ:" غُسْلًا" , حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حُمَيْدٌ , كَانَ عَطَاءٌ يَرْوِيهِ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ , عَنْ لُبَابَةَ .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ میں امام حسن یا حسین کو دودھ پلارہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آ کر گیلی جگہ پر بیٹھ گئے میں انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھادیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا یہ دیکھ کر میں نے ایک مشکیزہ اٹھانا چاہا تاکہ اس پر پانی بہادوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھویا تو بچی کا پیشاب جاتا ہے، بچے کے پیشاب پر صرف چھینٹے مار لئے جاتے ہیں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26877]
حکم دارالسلام: قوله: "ايا ام الفضل ان بول الغلام.." صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من أم الفضل. ثم ذكر الامام احمد قول حميد: كان عطاء يرويه عن ابي عياض، ولم يتبين لنا من هو ابو عياض