🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1235. حديث أم سليمان بن عمرو بن الأحوص رضي الله عنها
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27131
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يعني ابْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي : أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي , وَخَلْفَهُ إِنْسَانٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يُصِيبُوهُ بِالْحِجَارَةِ، وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَُّاس، لا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمْ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ"، ثُمَّ أَقْبَلَ , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا ذَاهِبُ الْعَقْلِ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ لَهَا:" ائْتِينِي بِمَاءٍ"، فَأَتَتْهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَتَفَلَ فِيهِ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبِي، فَاغْسِلِيهِ بِهِ، وَاسْتَشْفِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ"، فَقُلْتُ لَهَا: هَبِي لِي مِنْهُ قَلِيلًا لِابْنِي هَذَا، فَأَخَذْتُ مِنْهُ قَلِيلًا بِأَصَابِعِي، فَمَسَحْتُ بِهَا شِقَّةَ ابْنِي، فَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ، فَسَأَلْتُ الْمَرْأَةَ بَعْدُ مَا فَعَلَ ابْنُهَا؟ قَالَتْ: بَرِئَ أَحْسَنَ بَرْءٍ .
حضرت ام سلیمان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا، جو انہیں لوگوں کے پتھر لگنے سے بچا رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: لوگو! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے اور جب تم رمی کرو تو ٹھیکری کی کنکریوں جیسی کنکریوں سے رمی کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک عورت اپنا ایک بیٹا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میرے اس بیٹے کی عقل زائل ہو گئی ہے، آپ اللہ سے اس کے لئے دعا فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرے پاس پانی لاؤ، چنانچہ وہ پتھر کے ایک برتن میں پانی لے کر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور اس میں اپنا چہرہ دھو دیا اور دعاء کے بعد فرمایا: جاؤ اور اسے اس پانی سے غسل دو اور اللہ سے شفاء کی امید و دعا کا سلسلہ جاری رکھو۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ام سلیمان رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اس کا تھوڑا سا پانی مجھے بھی اپنے اس بیٹے کے لئے دے دیجئے! چنانچہ میں نے اپنی انگلیاں ڈال کر تھوڑا سا پانی لیا اور اس سے اپنے بیٹے کے جسم کو تر بتر کر دیا تو وہ بالکل صحیح ہو گیا، ام سلیمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بعد میں میں نے اس عورت کے متعلق پوچھا تو بتایا کہ اس کا بچہ بالکل تندرست ہو گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27131]

حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: "فأتته بماء..."، وهذا اسناد ضعيف لضعف يزيد ابن عطاء ويزيد بن ابي زياد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم جندب الأزدية، أم جندبصحابي
👤←👥سليمان بن عمرو الجشمي
Newسليمان بن عمرو الجشمي ← أم جندب الأزدية
مقبول
👤←👥يزيد بن أبي زياد الهاشمي، أبو عبد الله
Newيزيد بن أبي زياد الهاشمي ← سليمان بن عمرو الجشمي
ضعيف الحديث
👤←👥يزيد بن عطاء اليشكري، أبو خالد
Newيزيد بن عطاء اليشكري ← يزيد بن أبي زياد الهاشمي
مقبول
👤←👥الحسين بن محمد التميمي، أبو علي، أبو أحمد
Newالحسين بن محمد التميمي ← يزيد بن عطاء اليشكري
ثقة