مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1244. حديث أم بجيد رضي الله عنها
حدیث نمبر: 27148
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ، فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أدْفَعُ فِي يَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا" .
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27148]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن بجيد الأنصاري ← حواء الأنصارية