مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1244. حديث أم بجيد رضي الله عنها
حدیث نمبر: 27150
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ أَخِي بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي , فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا , فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ" .
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27150]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن بجيد الأنصاري ← حواء الأنصارية