مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1265. حديث أم كلثوم بنت عقبة أم حميد بن عبد الرحمن رضي الله عنها
حدیث نمبر: 27275
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ , قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: " الرَّجُلِ يَقُولُ الْقَوْلَ يُرِيدُ بِهِ الْإِصْلَاحَ , وَالرَّجُلِ يَقُولُ الْقَوْلَ فِي الْحَرْبِ , وَالرَّجُلِ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ , وَالْمَرْأَةِ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا" .
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے تین جگہوں کے جھوٹ بولنے کی کبھی رخصت نہیں دی، جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، میاں بیوی کے ایک دوسرے کو خوش کرنے میں۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27275]
حکم دارالسلام: هذا حديث لا يصح رفعه للنبي ﷺ، وإنما هو مدرج من كلام الزهري، وقد وهم عبدالوهاب فى رفعه
الرواة الحديث:
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أم كلثوم بنت عقبة القرشية