مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر: 27525
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ , وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ , وَأَرْفَعِهَا لِدَرَجَاتِكُمْ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا رِقَابَهُمْ وَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ؟ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو، تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ مید ان جنگ میں دشمن سے آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادوں؟ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سا عمل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27525]
حکم دارالسلام: هذا اسناد فيه ضعف وانقطاع، وقد سلف باسناد صحيح، انظر: 21702
الرواة الحديث:
زياد بن ميسرة المخزومي ← عويمر بن مالك الأنصاري