مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر: 27530
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرُ بْنُ كُرَيْبٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ , فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ , وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ , فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي , مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! تو ایک انصار نے کہا کہ یہ تو واجب ہوگئی پھر حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ ان کے قریب تھا اور فرمایا بھتیجے! میں سمجھتا ہوں کہ جب امام لوگوں کی امامت کرتا ہے تو وہ ان کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27530]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
كثير بن مرة الحضرمي ← عويمر بن مالك الأنصاري