مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1334. حديث صفوان بن أمية رضي الله عنه
حدیث نمبر: 27644
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حدثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِى ابْنَ قَرْمٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جعيد ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي، فَسُرِقَتْ، فَأَخَذْنَا السَّارِقَ، فَرَفَعْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي خَمِيصَتِي ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا؟ أَنَا أَهَبُهَا لَهُ، أَوَ أَبِيعُهَا لَهُ، قَالَ: " فَهَلَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟" .
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں سو ر ہا تھا کہ ایک چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا نکال لیا اور چلتا بنا، میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اور عرض کیا کہ اس شخص نے میرا کپڑا چرایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا تیس درہم کی چادر کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، یہ میں اسے ہبہ کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ صدقہ کر دیا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27644]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم، وجهالة جعيد، ثم انه اختلف فيه على سماك فى اسم جعيد
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صفوان بن أمية القرشي، أبو وهب، أبو أمية | صحابي | |
👤←👥جعيد بن حجير جعيد بن حجير ← صفوان بن أمية القرشي | مقبول | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← جعيد بن حجير | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥سليمان بن قرم التميمي، أبو داود سليمان بن قرم التميمي ← سماك بن حرب الذهلي | ضعيف غال في التشيع | |
👤←👥الحسين بن محمد التميمي، أبو علي، أبو أحمد الحسين بن محمد التميمي ← سليمان بن قرم التميمي | ثقة |
جعيد بن حجير ← صفوان بن أمية القرشي