علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أخبرني عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ، وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا، كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ".
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2767]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 492. رشدين ضعيف، لكنه توبع
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2767 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي