مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجْعَلُ نَبِيذَهُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ كَأَنَّهَا قَارُورَةٌ، غُدْوةً، وَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ: لَا، انْتَهُوا عَمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟!.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے، نیز اس بات سے منع فرمایا کہ وہ کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں، راوی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی صبح کے وقت شیشی جیسے سبز مٹکے میں نبیذ رکھے اور رات کو پی لے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم اس چیز سے باز نہیں آؤگے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2771]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف يزيد بن عطاء وقد توبع
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي