مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ. فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَيْهِ. وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ، قَالُوا: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ، لَأَعَضَّنَّ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ، وَلَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُهُ فِي يَدَيَّ، لَأَدُقَّنَّهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ تَصْطَكُّ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ" هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سُوءُ رَأْيِهِمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا، كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا.
محمد بن عبید مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے عرض کیا: ہمارے یہاں آج کل ایک آدمی آیا ہوا ہے جو تقدیر کا انکار کرتا ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اس کا پتہ تھا، اس وقت تک سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی جا چکی تھی، لوگوں نے پوچھا کہ اے ابوالعباس! آپ اس کا کیا کریں گے؟ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر مجھے اس پر قدرت مل گئی تو میں اس کی ناک کاٹ دوں گا، اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو اسے توڑ دوں گا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میں اس وقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں جب بنو فہر کی مشرک عورتیں خزرج کے لوگوں کے ساتھ طواف کریں گی اور ان کی سرین حرکت کرتے ہوں گے، یہ اس امت میں شرک کا آغاز ہوگا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان لوگوں تک ان کی رائے کی برائی پہنچ کر رہے گی یہاں تک کہ اللہ انہیں اس کیفیت سے نکال دے گا جس میں وہ خیر کا فیصلہ کرتا ہے، جیسے انہیں اس کیفیت سے نکالا تھا جس میں وہ شر کا فیصلہ کرتا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3054]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف محمد بن عبيد المكي، ثم هو لم يرو عن ابن عباس
الرواة الحديث:
محمد بن عبيد المكي ← عبد الله بن العباس القرشي