مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: سُئِلَ الزُّهْرِيُّ هَلْ فِي الْجُمُعَةِ غُسْلٌ وَاجِبٌ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ، فَلْيَغْتَسِلْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ وَقَالَ طَاوُسٌ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَأَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ" فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الْغُسْلُ، فَنَعَمْ، وَأَمَّا الطِّيبُ، فَلَا أَدْرِي.
امام زہری رحمہ اللہ سے کسی شخص نے پوچھا: کیا جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے؟ انہوں نے اپنی سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث سنائی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تم میں سے جو شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کر لے۔“ اور طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو اور اپنا سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3058]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 884
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3058 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي