مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، وَقَدْ مَاتَتْ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ، أَكُنْتَ تَقْضِيهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟“ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3224]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6699
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3224 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي