مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَقَالَ مَرَّةً: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحَدُ ابْنَيْ الْعَبَّاسِ، إِمَّا الْفَضْلُ ، وَإِمَّا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي، أَوْ أُمِّي قَالَ يَحْيَى: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: أَبِي كَبِيرٌ، وَلَمْ يَحُجَّ، فَإِنْ أَنَا حَمَلْتُهُ عَلَى بَعِيرٍ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهِ، وَإِنْ شَدَدْتَهُ عَلَيْهِ لَمْ آمَنْ عَلَيْهِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" أَكُنْتَ قَاضِيًا دَيْنًا لَوْ كَانَ عَلَيْهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاحْجُجْ عَنْهُ".
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ میرے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے، لیکن وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اتنے کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کرتے تو کیا وہ ادا ہوتا یا نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3377]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
الفضل بن العباس الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي