علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ، مِنْهُمْ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ، ابْنُ أَخِيكَ يَشْتِمُ آلِهَتَنَا، يَقُولُ وَيَقُولُ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فأرسل إليه فانهه. قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ، وَكَانَ قُرْبَ أَبِي طَالِبٍ مَوْضِعُ رَجُلٍ، فَخَشِيَ إِنْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَمِّهِ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ، فَوَثَبَ، فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ، فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا إِلَّا عِنْدَ الْبَابِ فَجَلَسَ، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ قَوْمَكَ يَشْكُونَكَ، يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ، وَتَقُولُ وَتَقُولُ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ. فَقَالَ:" يَا عَمِّ، إِنِّي إِنَّمَا أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ"، قَالُوا: وَمَا هِيَ؟ نَعَمْ وَأَبِيكَ، عَشْرًا. قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، قَالَ: فَقَامُوا وَهُمْ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ سورة ص آية 5 - 8.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوطالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، ابوطالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابوجہل آ کر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ ابوطالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، ابوطالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا“، انہوں نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے؟ فرمایا: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» “، یہ سن کر وہ لوگ کپڑے جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے، اس پر سورہ ص نازل ہوئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ « ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ » پر پہنچے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3419]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عباد بن جعفر فى عداد المجهولين
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3419 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي