🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: جاء العباس، وَعَلِيٌّ إلى عمر يختصمان، فقال العباس: اقض بيني وبين هذا الكذا كذا، فقال الناس: افصل بينهما، افصل بينهما، قَالَ: لَا أَفْصِلُ بَيْنَهُمَا، قَدْ عَلِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ".
مالک بن اوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ کرانے آئے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور ان کے درمیان فلاں فلاں چیز کا فیصلہ کر دیجئے، لوگوں نے بھی کہا کہ ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ان دونوں کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کروں گا کیونکہ یہ دونوں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 349]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2904، م: 1757

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥مالك بن أوس النصري، أبو سعيد
Newمالك بن أوس النصري ← عمر بن الخطاب العدوي
له رؤية
👤←👥عكرمة بن خالد المخزومي
Newعكرمة بن خالد المخزومي ← مالك بن أوس النصري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عكرمة بن خالد المخزومي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني
ثقة حجة حافظ