مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 3907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، حَتَّى ذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ، لَا تَخْتَلِفُوا" أَكْبَرُ عِلْمِي وَإِلََّا فَمِسْعَرٌ حَدَّثَنِي بِهَا" فَإِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَلَكُوا".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3907]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2410.
الرواة الحديث:
النزال بن سبرة الهلالي ← عبد الله بن مسعود