مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 4077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ ، مَوْلًى لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ"، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ؟ قَالَ:" وَاثْنَيْنِ"، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: قَدَّمْتُ وَاحِدًا، قَالَ:" وَوَاحِدٌ، وَلَكِنْ ذَاكَ فِي أَوَّلِ صَدْمَةٍ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں، وہ ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ بن جائیں گے۔“ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے“، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو دو بچے آگے بھیجے ہیں؟ فرمایا: ”پھر بھی یہی حکم ہے۔“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ - جو سید القراء کے نام سے مشہور ہیں - عرض کرنے لگے کہ میرا صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا بھی یہ حکم ہے لیکن اس چیز کا تعلق تو صدمہ کے ابتدائی لمحات سے ہے (کہ اس وقت کون صبر کرتا ہے اور کون جزع فزع؟ کیونکہ بعد میں تو سب ہی صبر کرلیتے ہیں)۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4077]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود، ولجهالة حال أبى محمد.
الرواة الحديث:
أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود