مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 4605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِأَرْضِ الْفَلَاةِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ الْقُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر جنگل میں انسان کو ایسا پانی ملے، جہاں جانور اور درندے بھی آتے ہوں تو کیا اس سے وضو کیا جا سکتا ہے؟ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا (اس میں گندگی سرایت نہیں کرتی)۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4605]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، و هذا أسناد حسن، محمد ابن إسحاق صرح بالتحديث عند دارقطني، فانتفت شبهة تدليسه
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي