پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 4807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ، وَكَانَتْ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ، لَقِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عُثْمَانَ، فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ، وَسَأَنْظُرُ، فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ، فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ، فَوَجَدَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، فَإِذَا" رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَطَبَهَا"، فَلَقِيَ عُمَرُ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ، فَرَدَّنِي، وَإِنِّي عَرَضْتُهَا عَلَيْكَ، فَسَكَتَّ عَنِّي، فَلَأَنَا عَلَيْكَ كُنْتُ أَشَدَّ غَضَبًا مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ وَقَدْ رَدَّنِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَكَرَ مِنْ أَمْرِهَا، وَكَانَ سِرًّا، فَكَرِهْتُ أَنْ أُفْشِيَ السِّرَّ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدہ حفصہ کے شوہر سیدنا خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان کے سامنے اپنی بیٹی سے نکاح کی پیشکش رکھی انہوں نے کہا کہ مجھے عورتوں کی طرف کوئی رغبت نہیں ہے البتہ میں سوچوں گا، اس کے بعد وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے بھی یہی کہا: لیکن انہوں نے مجھے جواب نہ دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت بہت غصہ آیا۔ چند دن گزرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے پیغام نکاح بھیج دیا، چنانچہ انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ اتفاقاً ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ فرمانے لگے، میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اپنی بیٹی کے نکاح کی پیشکش کی تو انہوں نے صاف جواب دے دیا لیکن جب میں نے آپ کے سامنے یہ پیشکش کی تو آپ خاموش رہے جس کی بناء پر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ آپ پر غصہ آیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا تھا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ضرور ان سے نکاح کر لیتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4807]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5122، سفيان ابن حسين الواسطي. وإن كان ضعيفا فى روايته عن الزهري. قد توبع
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن الحسين الواسطي، أبو محمد، أبو الحسن، أبو المؤمل سفيان بن الحسين الواسطي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق يخطئ | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← سفيان بن الحسين الواسطي | ثقة متقن |
Musnad Ahmad Hadith 4807 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي