مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 5321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ"، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، يَقُولُ: إِمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا إِنْ لَمْ يُرِدْ إِمْسَاكَهَا، وَإِمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا، فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، وَبَانَتْ مِنْكَ، وَبِنْتَ مِنْهَا.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ”ایام“ کی حالت میں ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں اور دوبارہ ”ایام“ آنے تک انتظار کریں اور ان سے ”پاکیزگی“ حاصل ہونے تک رکے رہیں، پھر اپنی بیوی کے ”قریب“جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا کہ جب ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جاتا جو ”ایام“ کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فرماتے کہ تم نے تو اسے ایک یا دو طلاقیں کیوں نہیں دیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور دوسرے ایام اور ان کے بعد طہر ہونے تک انتظار کریں، پھر اس کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں، جب کہ تم تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے آئے ہو، تم نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے سے متعلق بتایا ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو چکی اور تم اس سے جدا ہو چکے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5321]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 1471.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← أيوب السختياني | ثقة |
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي