الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. ومن أخبار عثمان بن عفان رضي الله عنه
حدیث نمبر: 537
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: زَعَمَ أَبُو الْمِقْدَامِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ، فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ، فَقَضَى بَيْنَهُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، بِوَجْنَتِهِ نَكَتَاتُ جُدَرِيٍّ، وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ.
حسن بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا، میری نظر اچانک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر پڑی، وہ اپنی چادر کا تکیہ بنا کر اس سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، دو آدمی ان کے پاس جھگڑتے ہوئے آئے، انہوں نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیا، پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں غور سے دیکھا تو وہ ایک حسین و جمیل آدمی تھے، ان کے رخسار پر چیچک کے کچھ نشانات تھے اور بالوں نے ان کے بازوؤں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 537]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى المقدام - وأسمه هشام بن زياد القرشي
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥هشام بن أبي هشام القرشي، أبو المقدام هشام بن أبي هشام القرشي ← الحسن البصري | متروك الحديث | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← هشام بن أبي هشام القرشي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥زياد بن أيوب الطوسي، أبو هاشم زياد بن أيوب الطوسي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ |
هشام بن أبي هشام القرشي ← الحسن البصري