یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 5639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّأْمِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَرَّةً عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ".
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل شام میں سے ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا دوست تھا جو ان سے خط و کتابت بھی کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط لکھا کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ تم تقدیر کے بارے میں اپنی زبان کھولتے ہو، آئندہ مجھے خط نہ لکھنا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو تقدیر کی تکذیب کرتے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5639]
حکم دارالسلام: إسناده حسن .
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 5639 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي