مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 5675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَا جَالِسٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، فَقَالَ لَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: هَا، انْظُرُوا إِلَى هَذَا! يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا"!!.
ابن ابی نعم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی آدمی نے میری موجودگی میں یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو مار دے تو کیا حکم ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا عراق کا، انہوں نے فرمایا: واہ! اسے دیکھو، یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا، حالانکہ میں نے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5675]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5994.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 5675 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ← عبد الله بن عمر العدوي