مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ مِنْ حَرِيرٍ أَوْ سِيَرَاءَ، أَوْ نَحْوِ هَذَا، فَرَآهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا هِيَ ثِيَابُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَنْفِعَ بِهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا، پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جسم پر دیکھا تو فرمایا کہ میں نے اسے تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا کیونکہ دنیا میں یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5951]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2104، م: 2068.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 5951 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي