مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءَ عَلَى بَغْلَةٍ لِي، قَدْ صَلَّيْتُ فِيهِ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَاشِيًا، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِي، ثُمّ قُلْتُ: ارْكَبْ أَيْ عَمِّ، قَالَ: أَيْ ابْنَ أَخِي، لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْكَبَ الدَّوَابَّ لَوَجَدْتُهَا، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمْشِي إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى يَأْتِيَ فَيُصَلِّيَ فِيهِ"، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِيَ إِلَيْهِ كَمَا رَأَيْتُهُ يَمْشِي، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَ، وَمَضَى عَلَى وَجْهِهِ.
عبداللہ بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ میں اپنے خچر پر سوار ہو کر مسجد قباء سے آرہا تھا وہاں مجھے نماز پڑھنے کا موقع بھی ملا تھا راستے میں میری ملاقات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہو گئی جو پیدل چلے آرہے تھے، میں انہیں دیکھ کر اپنے خچر سے اترپڑا اور ان سے عرض کیا کہ چچاجان! آپ اس پر سوار ہوجائیے، انہوں نے فرمایا: بھتیجے! اگر میں سواری پر سوار ہونا چاہتا تو مجھے سواریاں مل جاتیں، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل جاتے ہوئے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پہنچ کرنماز بھی پڑھتے تھے اس لئے جیسے میں نے انہیں پیدل جاتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح خود بھی پیدل جانا پسند کرتا ہوں یہ کہہ کر انہوں نے سوار ہونے سے انکار کر دیا اور اپنے راستے پر ہو لئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5999]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق، وقد صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 5999 in Urdu
عبد الله بن قيس القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي