الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 6097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخَّرَ لَيْلَةً الْعِشَاءَ حَتَّى رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، وَإِنَّمَا حَبَسَنَا لِوَفْدٍ جَاءَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" لَيْسَ أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کر دیا کہ ہم لوگ مسجد میں تین مرتبہ سو کر جاگے دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد آیا ہوا تھا؟ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: کہ اس وقت روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی شخص نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6097]
حکم دارالسلام: إسناده حسن.
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي