الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 6424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ شَرَاحِيلَ ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ: رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا , قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ؟ قَالَ: مَا ذُو الْمَجَازِ؟ قُلْتُ: مَكَانٌ نَجْتَمِعُ فِيهِ، وَنَبِيعُ فِيهِ، وَنَمْكُثُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً , فَقَالَ: يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ، كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ، لَا أَدْرِي، قَالَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ، فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَ عَيْنِي يُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَزَعَ إِلَيَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
ئثمامہ بن شراجیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے ان سے مسافر کی نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا: ”کہ اس کی دو دو رکعتیں ہیں سوائے مغرب کے کہ اس کی تین ہی رکعتیں ہیں میں نے پوچھا اگر ہم " ذی المجاز " میں ہوں تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے پوچھا " ذوالمجاز " کس چیز کا نام ہے؟ میں نے کہا کہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں ہم لوگ اکٹھے ہوتے ہیں خریدو فروخت کرتے ہیں اور بیس پچیس دن وہاں گزارتے ہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے شخص میں آذربائجان میں تھا وہاں چار یا دو ماہ رہا (یہ یاد نہیں) میں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو وہاں دو دو رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا پھر میں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر دو دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ " تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ " [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6424]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
الرواة الحديث:
ثمامة بن شراحيل اليماني ← عبد الله بن عمر العدوي