مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ صَاحِبٌ لَهُ يُوتِرُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا شَأْنُكَ لَا تَرْكَبُ؟ قَالَ: أُوتِرُ , قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟!".
نافع رحمہ اللہ کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک سفر میں تھے ان کا کوئی شاگرد وتر پڑھنے کے لئے اپنی سواری سے اترا تو انہوں نے اس سے پوچھا کیا بات ہے تم سوار کیوں نہیں رہے؟ اس نے کہا میں وتر پڑھنا چاہتا ہوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا اللہ کے رسول کی ذات میں تمہارے لئے اسؤہ حسنہ موجود نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6449]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 999، م: 700
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 6449 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي