مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 6476
(حديث مرفوع) قَالَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 هُوَ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ، وَقَالَ عَطَاءٌ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَوْثَرُ: نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ، وَالْمَاءُ يَجْرِي عَلَى اللُّؤْلُؤِ، وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ".
عطاء بن سائب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے محارب بن دثار نے کہا کہ آپ نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کوثر کے متعلق کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے محارب نے کہا سبحان اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ علیہ کا قول اتنا کم وزن نہیں ہو سکتا میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب سورت کوثر نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے جس کا پانی موتیوں اور یاقوت کی کنکر یوں پر بہتا ہے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے محارب نے یہ سن کر کہا کہ پھر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے صحیح فرمایا: ”کیونکہ واللہ وہ خیر کثیر ہی تو ہے۔ آخر مسند عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6476]
حکم دارالسلام: حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف، فإن ورقاء بن عمر اليشكري، سمع من عطاء بن السائب بعد الاختلاط لكن سلف برقم: 5913 من رواية حماد بن زيد، وهو ممن سمع من عطاء قبل الاختلاط، و انظر: 5355
الرواة الحديث:
محارب بن دثار السدوسي ← عبد الله بن عمر العدوي