مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسنَد عَبدِ اللهِ بنِ عَمرو بنِ العَاصِ رَضِیَ الله تَعالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 6717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ، وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ، فَهُوَ لَهُمْ، وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو عمداً قتل کر دے اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا اگر وہ چاہیں تو اسے بدلے میں قتل کر دیں اور چاہیں تو دیت لے لیں جو تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہو گی، یہ قتل عمد کی دیت ہے اور جس چیز پر فریقین کے درمیان صلح ہو جائے وہ ورثاء مقتول کو ملے گی اور یہ سخت دیت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6717]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 6717 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي