مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 6813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ، وَهُمَا هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا هِجْرَةُ الْبَادِي، فَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ، وَأَمَّا هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، فَهِيَ أَشَدُّهُمَا بَلِيَّةً، وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا".
سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سی ہجرت افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناگوار گزریں اور ہجرت کی دو قسمیں ہیں شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت دیہاتی کی ہجرت تو یہ ہے کہ جب اسے دعوت ملے تو قبول کر لے اور جب حکم ملے تو اس کی اطاعت کرے اور شہری کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6813]
حکم دارالسلام: حديث صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 6813 in Urdu
عبد الله بن مالك الزبيدي ← عبد الله بن عمرو السهمي