مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 7869
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا مَعَهُ، فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: أَعْطِنِي يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَقَالَ: " لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ". فَجَذَبَهُ بحُجْزَتِه، فَخَدَشَهُ، قَالَ: فَهَمُّوا بِهِ، قَالَ:" دَعُوهُ". قَالَ: ثُمَّ أَعْطَاهُ، قَالَ: وَكَانَتْ يَمِينُهُ أَنْ يَقُولَ:" لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے اسی اثناء میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " نہیں استغفر اللہ " یہ سن کر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جسم پر خراشیں ڈال دیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ کر سزا دینا چاہی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دے دیا دراصل یہ الفاظ " نہیں استغفر اللہ " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کے الفاظ تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7869]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، هلال والد محمد، لا يعرف.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥هلال بن أبي هلال المذحجي هلال بن أبي هلال المذحجي ← أبو هريرة الدوسي | مقبول | |
👤←👥محمد بن هلال المذحجي محمد بن هلال المذحجي ← هلال بن أبي هلال المذحجي | ثقة | |
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين زيد بن الحباب التميمي ← محمد بن هلال المذحجي | صدوق حسن الحديث |
هلال بن أبي هلال المذحجي ← أبو هريرة الدوسي