مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8092
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟"، قَالُوا: مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ، وَالْبَطَنُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت میں شہداء کی تعداد بہت کم ہوگی جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرنا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8092]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 653، م: 1915
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 8092 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي