مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8616
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ عبدُ الَّله بن أحمد: قال أَبِي: لَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ: جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَي، فَقَالَ: أَجِبْ رَبَّكَ، فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا، فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: إِنَّكَ بَعَثْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي، قَالَ: فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَال: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَمَا دَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعَرَه، فَإِنَّكَ تَعِيشُ لَهَا سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ يَا رَبِّ مِنْ قَرِيبٍ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے پہنچے اور ان سے کہا کہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک طمانچہ مار کر ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا: ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا: پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8616]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات لکن اختلف في رفعه و وقفه ، خ : 1339 ، م : 2372 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ
الرواة الحديث:
سليم بن جبير الدوسي ← أبو هريرة الدوسي