مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8661
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَان، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: لا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ نے مال و دولت دیا ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو قیامت کے دن اس مال کو گنجا سانپ جس کے منہ میں دو دھاریں ہوں گی " بنادیا جائے گا اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر اسے چبانے لگے گا اور اس سے کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی وہ لوگ جنہیں اللہ نے اپنا فضل عطاء فرما رکھا ہو اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ مت سمجھیں۔۔۔۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8661]
حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6958 ، م : 987
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي