مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 867
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُسَجًّى ثَوْبِهِ، قَدْ قَضَى نَحْبَهُ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمّ قَالَ:" رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ يا أَبَا حَفْصٍ، فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِصَحِيفَتِهِ مِنْكَ،.
ابوجحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جنازے کے قریب ہی تھا، ان کا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، اسی اثناء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر فرمایا: اے ابوحفص! اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو آپ پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ اعمال کے بعد آپ کے علاوہ اللہ کی پوری مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنا مجھے محبوب ہو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 867]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، سويد بن سعيد ويونس بن أبى يعفور حديثهما حسن فى المتابعات والشواهد، وانظر ما قبله
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 867 in Urdu
وهب بن وهب السوائي ← علي بن أبي طالب الهاشمي