مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8749
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ الْهِفَّانِيُّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول: ُسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، وَالْآخَرُ مُسْرِفٌ عَلَى نَفْسِهِ، وَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ، فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى عَلَى الْآخَرِ ذَنْبًا، فَيَقُولُ: وَيْحَكَ أَقْصِرْ، فَيَقُولُ: الْمُذْنِب خَلِّنِي وَرَبِّي" فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ان میں سے ایک بڑا عبادت گذار اور دوسرا بہت گناہ گار تھا دونوں میں بھائی چارہ تھا عبادت گذار جب بھی دوسرے شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتا تو اس سے کہتا کہ اس سے باز آجا لیکن وہ جواب دیتا کہ تو مجھے اور میرے رب کو چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8749]
حکم دارالسلام: إسناده حسن، عكرمة صدوق لكن قد روى أحاديث غرائب
الرواة الحديث:
ضمضم بن جوس الهفاني ← أبو هريرة الدوسي