علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 9185
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ أَوْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ، سَأَلَهُمْ: " هَلْ تَرَكَ دَيْنًا؟". فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" هَلْ تَرَكَ وَفَاءً؟"، فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ. صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لَا. قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اسے اداء کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9185]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 9185 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي