🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1071
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمُّ إِنِّي مُتَّخِذٌ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْفِرَهُ، أَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ آذَيْتُهُ، جَلْدُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلاةً وَزَكَاةً، دُعَاءً لَهُ" , قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: فَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ لَعَنْتُهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں یہ عہد کر رہا ہوں ایسا عہد جس کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ جس بھی مسلمان کو میں اذیت پہنچاؤں جیسے میں نے اسے کوڑا مارا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، تو یہ چیز اس کے لیے رحمت اور پاکیزگی کا ذریعہ بنا دینا اور اسے اس کے لیے دعا بنا دینا۔ شیخ ابوزناد کہتے ہیں: روایت کے الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی لغت کے مطابق بیان کئے ہیں ورنہ اصل لفظ یہ ہے: «جَلَدْتُهُ، لَعَنْتُهُ» [مسند الحميدي/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6361، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2601، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6515، 6516، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2807، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13509، 13510، 13511، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7431، 8316»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6361
أيما مؤمن سببته فاجعل ذلك له قربة إليك يوم القيامة
صحيح مسلم
6623
أيما عبد مؤمن سببته فاجعل ذلك له قربة إليك يوم القيامة
صحيح مسلم
6624
أيما مؤمن سببته أو جلدته فاجعل ذلك كفارة له يوم القيامة
صحيح مسلم
6622
أيما مؤمن آذيته أو سببته أو جلدته فاجعلها له كفارة قربة تقربه بها إليك يوم القيامة
صحيح مسلم
6619
أي المؤمنين آذيته شتمته لعنته جلدته فاجعلها له صلاة زكاة قربة تقربه بها إليك يوم القيامة
صحيفة همام بن منبه
87
أي المؤمنين آذيته أو شتمته أو جلدته أو لعنته فاجعلها صلاة زكاة قربة تقربه بها يوم القيامة
مسندالحميدي
1071
اللهم إني متخذ عندك عهدا لن تخفره، أيما رجل من المسلمين آذيته، جلده أو لعنته فاجعلها له صلاة وزكاة، دعاء له
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1071 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1071
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ شفقت والا رویہ رکھتے تھے، نہ کسی کو تکلیف دیتے تھے، نہ ہی کسی کو مارتے تھے اور نہ ہی کسی کو بد دعا دیتے تھے، یاد رہے کہ حدود کو نافذ کرنا اور کفار پر بد دعا کرنا مستثنٰی ہے بعض لوگ حلالہ کی بحث میں لعنت کو رحمت کے معنی میں تبدیل کرنے کی خاطر اس باب کی حدیث کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ یہ سراسر قرآن و حدیث سے مذاق ہے، کیونکہ جس کام پر لفظ لعنت استعمال ہوا ہو، وہ کبیرہ گناہ ہوتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1070]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6361
6361. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: اے اللہ! میں نے جس مومن کو بھی برا بھلا کہا ہو تو میری اس گفتار کو قیامت کے دن اس کے لیے اپنی قربت کا زریعہ بنادے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6361]
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی بھر میں کبھی کسی مومن کو برا نہیں کہا۔
لہٰذا یہ ارشاد گرامی کمال تواضع اور اہل ایمان سے شفقت کی بنا پر فرمایا گیا۔
(صلی اللہ علیہ وسلم )
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6361]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6361
6361. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: اے اللہ! میں نے جس مومن کو بھی برا بھلا کہا ہو تو میری اس گفتار کو قیامت کے دن اس کے لیے اپنی قربت کا زریعہ بنادے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6361]
حدیث حاشیہ:
(1)
پوری حدیث اس طرح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے اللہ! میں تجھ سے عہد لیتا ہوں جس کا تو خلاف نہیں کرے گا، میں ایک انسان ہوں تو جس مومن کو میں اذیت دوں، برا بھلا کہوں یا لعنت کر دوں یا ماروں تو وہ اس کے لیے رحمت و پاکیزگی اور ایسی قربت کا ذریعہ بنا دے جو قیامت کے دن اسے قریب کر دے۔
(صحیح مسلم، البر والصلة، حدیث: 6619 (2601)
ایک دوسری حدیث میں اس کا پس منظر بھی بیان ہوا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے۔
معلوم نہیں انہوں نے آپ سے کیا باتیں کیں کہ آپ کو ناراض کر دیا، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا بھلا کہا۔
جب وہ باہر چلے گئے تو میں نے کہا:
اللہ کے رسول! ان دونوں کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
آپ نے فرمایا:
وہ کیسے؟ میں نے عرض کی:
آپ نے ان پر لعنت کی ہے اور انہیں برا بھلا کہا ہے۔
آپ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
عائشہ! تجھے معلوم نہیں ہے کہ میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے (اللہ سے)
عرض کی ہے:
اے میرے اللہ! میں صرف بشر ہوں، لہذا میں تو جس مسلمان پر لعنت کروں یا اس کو برا بھلا کہوں تو اس (لعنت اور برا بھلا کہنے)
کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے۔
(صحیح مسلم، البر والصلة، حدیث: 6614 (2600) (2)
یہ اس صورت میں ہے جب وہ آدمی اس لعنت کا حق دار نہ ہو جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں نے اپنی امت میں سے جس کسی پر بددعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اے اللہ! اس قسم کی بددعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے۔
(صحیح مسلم، البر والصلة، حدیث: 6627 (2603)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6361]

Musnad al-Humaydi Hadith 1071 in Urdu