مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1191
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطِسَ خَمَّرَ وَجْهَهُ، وَأَخْفَى عَطْسَتَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب چھینکتے تھے، تو اپنے چہرے کو ڈھانپ لیتے تھے اور چھینکنے کی آواز کو پست کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 7891، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5029، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2745، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3636، 3637، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9793، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6663، والبزار فى «مسنده» برقم: 8950، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1849، والطبراني فى «الصغير» برقم: 109»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥سمي القرشي، أبو عبد الله سمي القرشي ← أبو صالح السمان | ثقة | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← سمي القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن عجلان القرشي | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2745
| إذا عطس غطى وجهه بيده وغض بها صوته |
سنن أبي داود |
5029
| إذا عطس وضع يده على فيه وخفض بها صوته |
المعجم الصغير للطبراني |
658
| إذا عطس خمر وجهه |
مسندالحميدي |
1191
| أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان إذا عطس خمر وجهه، وأخفى عطسته |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1191 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1191
فائدہ:
اس حدیث میں چھینک کے متعلق ایک مسئلہ بیان ہوا ہے کہ چھینکتے وقت کپڑے سے اپنے منہ کو ڈھانپنا چاہیے، اور چھینک کی آواز پست رکھنی چاہیے، نہ کہ لوگوں کو ڈرا دینا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام کس قدر مکمل دین ہے، والحمد للہ، افسوس کہ مسلمان دین کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
اس حدیث میں چھینک کے متعلق ایک مسئلہ بیان ہوا ہے کہ چھینکتے وقت کپڑے سے اپنے منہ کو ڈھانپنا چاہیے، اور چھینک کی آواز پست رکھنی چاہیے، نہ کہ لوگوں کو ڈرا دینا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام کس قدر مکمل دین ہے، والحمد للہ، افسوس کہ مسلمان دین کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1189]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5029
چھینک کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5029]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5029]
فوائد ومسائل:
بعض لوگ چھینک آنے پر جان بوجھ کرزور دے کر آواز نکالتے ہیں۔
جو خلاف ادب اور غیر مسنون ہے۔
اضطراری کیفیت ان شاء اللہ معاف ہے۔
بعض لوگ چھینک آنے پر جان بوجھ کرزور دے کر آواز نکالتے ہیں۔
جو خلاف ادب اور غیر مسنون ہے۔
اضطراری کیفیت ان شاء اللہ معاف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5029]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2745
چھینکتے وقت آواز دھیمی کرنے اور منہ ڈھانپ لینے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنے ہاتھ سے یا اپنے کپڑے سے منہ ڈھانپ لیتے، اور اپنی آواز کو دھیمی کرتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2745]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنے ہاتھ سے یا اپنے کپڑے سے منہ ڈھانپ لیتے، اور اپنی آواز کو دھیمی کرتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2745]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چھینک آتے وقت دوسروں کا خیال رکھا جائے،
ایسا نہ ہو کہ ناک سے نکلے ہوئے ذرات دوسروں پر پڑیں،
اس لیے ہاتھ یا کپڑے منہ پر رکھ لینا چاہئے،
اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام نے تہذیب وشائستگی کے ساتھ ساتھ نظافت پر بھی زور دیا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چھینک آتے وقت دوسروں کا خیال رکھا جائے،
ایسا نہ ہو کہ ناک سے نکلے ہوئے ذرات دوسروں پر پڑیں،
اس لیے ہاتھ یا کپڑے منہ پر رکھ لینا چاہئے،
اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام نے تہذیب وشائستگی کے ساتھ ساتھ نظافت پر بھی زور دیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2745]
Musnad al-Humaydi Hadith 1191 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي