🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(حیض کی حالت میں ہڈی چوسنے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 166
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ فَأَتَعَرَّقُهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ، فَيُدِيرُهُ حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فَمِي" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہڈی دیتے تھے میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی، میں اسے چوستی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، أخرجه مسلم فى ”صحيحه“ برقم: 300، وابن حبان فى صحيحه برقم: 1293، 1360، 1361، 4181 وابن خزيمة فى صحيحه، برقم: 110 وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 4771، وأحمد فى ”مسنده“: برقم: 24966»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥شريح بن هانئ الحارثي، أبو المقدام
Newشريح بن هانئ الحارثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥المقدام بن شريح الحارثي
Newالمقدام بن شريح الحارثي ← شريح بن هانئ الحارثي
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← المقدام بن شريح الحارثي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 166 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:166
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حائضہ کا جوٹھا پاک ہے، اور حالت حیض میں بیوی سے نفرت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ بیوی کے ساتھ تمام امور میں نرمی کرنی چاہیے، اسلام نے عورت کو کتنا احترام دیا ہے، اس پر خواتین کو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 166]