🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرنے کی فضیلت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَابِعُوا مَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا يَزِيدَانِ فِي الأَجَلِ، وَيَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ" . قَالَ سُفْيَانُ : هَذَا الْحَدِيثُ حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدَةُ أَتَيْنَاهُ لِنَسْأَلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا حَدَّثَنِيهِ عَاصِمٌ، وَهَذَا عَاصِمٌ حَاضِرٌ، فَذَهَبْنَا إِلَى عَاصِمٍ فَسَأَلْنَاهُ، فَحَدَّثَنَا بِهِ هَكَذَا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَمَرَّةً يَقِفُهُ عَلَى عُمَرَ وَلا يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، وَأَكْثَرُ ذَلِكَ كَانَ يُحَدِّثُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ سُفْيَانُ: وَرُبَّمَا سَكَتْنَا عَنْ هَذِهِ الْكَلِمَةِ: يَزِيدَانِ فِي الأَجَلِ، فَلا نُحَدِّثُ بِهَا مَخَافَةَ أَنْ يَحْتَجَّ بِهَا هَؤُلاءِ يَعْنِي: الْقَدَرِيَّةَ , وَلَيْسَ لَهُمْ فِيهَا حُجَّةٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرو، کیونکہ ان دونوں کو آگے پیچھے کرنا زندگی میں اضافہ کرتا ہے غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: یہ روایت عبدالکریم نامی راوی نے عبدہ نامی راوی کے حوالے سے اور انہوں نے عاصم کے حوالے سے بیان کی تھی۔ جب عبدہ آئے، تو ہم اس روایت کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے بتایا: عاصم نے یہ روایت مجھے سنائی ہے اور عاصم بھی یہاں موجود ہیں، یعنی اسی شہر میں ہیں، تو ہم لوگ عاصم کے پاس گئے اور ان سے روایت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے یہ روایت اسی طرح ہمیں سنائی۔ پھر اس کے بعد میں نے انہیں سنا کہ ایک مرتبہ انہوں نے اس روایت کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک موقوف روایت کے طور پر بیان کیا اور ایک مرتبہ انہوں نے اس کی سند میں اپنے والد کا تذکرہ نہیں کیا۔ تاہم اکثر اوقات وہ اس روایت کو عبداللہ بن عامر کے حوالے سے، وہ ان کے والد کے حوالے سے، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: بعض اوقات وہ ہمارے سامنے یہ الفاظ بھی بیان نہیں کرتے تھے: یہ دونوں زندگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ تو ہم ان کلمات کو حدیث میں بیان نہیں کرتے ہیں اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ لوگ اس کے ذریعے استدلال نہ کریں۔ سفیان کی مراد وہ لوگ تھے جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ اس روایت میں ان لوگوں کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن متن صحيح وأخرجه الضياء المقدسي فى «الأحاديث المختارة» برقم: 143، 144، 160، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2887، 2887 م، وأحمد فى «مسنده» برقم: 169، 15938، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 198، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8797، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12781، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 5529»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عامر بن ربيعة العنزي، أبو عبد الله
Newعامر بن ربيعة العنزي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبد الله بن عامر العنزي، أبو محمد
Newعبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي
له رؤية
👤←👥عاصم بن عبيد الله القرشي
Newعاصم بن عبيد الله القرشي ← عبد الله بن عامر العنزي
ضعيف الحديث
👤←👥عبدة بن أبي لبابة الأسدي، أبو القاسم
Newعبدة بن أبي لبابة الأسدي ← عاصم بن عبيد الله القرشي
ثقة
👤←👥عبد الكريم بن مالك الجزري، أبو سعيد
Newعبد الكريم بن مالك الجزري ← عبدة بن أبي لبابة الأسدي
ثقة متقن
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الكريم بن مالك الجزري
ثقة حافظ حجة
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص
Newعمر بن الخطاب العدوي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صحابي
👤←👥عامر بن ربيعة العنزي، أبو عبد الله
Newعامر بن ربيعة العنزي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبد الله بن عامر العنزي، أبو محمد
Newعبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي
له رؤية
👤←👥عاصم بن عبيد الله القرشي
Newعاصم بن عبيد الله القرشي ← عبد الله بن عامر العنزي
ضعيف الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عاصم بن عبيد الله القرشي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2887
تابعوا بين الحج والعمرة فإن المتابعة بينهما تنفي الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد
مسندالحميدي
17
تابع ما بين الحج والعمرة فإن متابعة بينهما يزيدان في الأجل، وينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير الخبث
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 17 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:17
فائدہ:
➊ اس حدیث میں حج و عمرہ مسلسل کرنے پر رغبت دلائی گئی ہے، اگر کسی نے عمرہ کیا ہے تو وہ حج کرے اور اگر کسی نے حج کیا تو وہ عمرہ کرے۔ عمرہ اور حج اگرچہ زندگی میں ایک بار فرض ہیں، لیکن اپنے مال کو حج اور عمرہ کے سفر میں خرچ کرنا بہت زیادہ اہمیت والا عمل ہے، لہٰذا پوری زندگی جب بھی موقع میسر آئے حج یا عمرہ کرتے رہنا چاہیے۔ بعض لوگ صرف عمرہ کرتے ہیں اور زندگی میں بہت زیادہ عمرے کرتے رہتے ہیں لیکن حج نہیں کرتے۔ یہ بات غلط ہے۔ جو کئی بار عمرے کر سکتا ہے، گویا اس کے پاس حج کی بھی طاقت ہے، تو وہ حج کے فرایضے کو اول فرصت میں ادا کرے۔
➋ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ حج و عمرہ کا خرچہ بھی اللہ تعالی کی راہ میں ہے۔ اس لیے اس سے بھی مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور فقر و فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
➌ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔ اس لیے اسے حج اصغر (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے اور یہ بہت گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 17]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2887
حج اور عمرہ کی فضیلت۔
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2887]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج وعمرے پے درپے ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حج کیا جائے تو اس کے بعد عمرہ بھی کیاجائے۔
اور اگر عمرے کا موقع مل جائے تو کوشش کی جائےکہ حج بھی ادا کرلیا جائے۔
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہےکہ حج اور عمرہ باربار ادا کیا جائے۔
جب بھی حج کا موقع ملے حج کرلیا جائےاور جب عمرے کا موقع ملے عمرہ کرلیا جائے۔

(2)
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
جوعمرہ کا خرچ بھی اللہ کی راہ میں ہے اس لیے اس سے بھی اس کے مال میں اضافہ ہوتا ہےاور فقر فاقہ سے نجات ملتی ہے۔

(3)
حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔
اس لیے اسے حج اصغر (چھوٹا حج)
بھی کہتے ہیں۔
ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
اور یہ بہت سے گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2887]

Musnad al-Humaydi Hadith 17 in Urdu