سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : فضل الحج والعمرة
باب: حج اور عمرہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2887
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ الْمُتَابَعَةَ بَيْنَهُمَا تَنْفِي الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10477، ومصباح الزجاجة: 1018) (صحیح)» (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن اصل حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1200)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن عامر العنزي، أبو محمد عبد الله بن عامر العنزي ← عمر بن الخطاب العدوي | له رؤية | |
👤←👥عاصم بن عبيد الله القرشي عاصم بن عبيد الله القرشي ← عبد الله بن عامر العنزي | ضعيف الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عاصم بن عبيد الله القرشي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2887
| تابعوا بين الحج والعمرة فإن المتابعة بينهما تنفي الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد |
مسندالحميدي |
17
| تابع ما بين الحج والعمرة فإن متابعة بينهما يزيدان في الأجل، وينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير الخبث |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2887 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2887
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج وعمرے پے درپے ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حج کیا جائے تو اس کے بعد عمرہ بھی کیاجائے۔
اور اگر عمرے کا موقع مل جائے تو کوشش کی جائےکہ حج بھی ادا کرلیا جائے۔
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہےکہ حج اور عمرہ باربار ادا کیا جائے۔
جب بھی حج کا موقع ملے حج کرلیا جائےاور جب عمرے کا موقع ملے عمرہ کرلیا جائے۔
(2)
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
جوعمرہ کا خرچ بھی اللہ کی راہ میں ہے اس لیے اس سے بھی اس کے مال میں اضافہ ہوتا ہےاور فقر فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
(3)
حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔
اس لیے اسے حج اصغر (چھوٹا حج)
بھی کہتے ہیں۔
ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
اور یہ بہت سے گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
حج وعمرے پے درپے ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حج کیا جائے تو اس کے بعد عمرہ بھی کیاجائے۔
اور اگر عمرے کا موقع مل جائے تو کوشش کی جائےکہ حج بھی ادا کرلیا جائے۔
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہےکہ حج اور عمرہ باربار ادا کیا جائے۔
جب بھی حج کا موقع ملے حج کرلیا جائےاور جب عمرے کا موقع ملے عمرہ کرلیا جائے۔
(2)
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
جوعمرہ کا خرچ بھی اللہ کی راہ میں ہے اس لیے اس سے بھی اس کے مال میں اضافہ ہوتا ہےاور فقر فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
(3)
حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔
اس لیے اسے حج اصغر (چھوٹا حج)
بھی کہتے ہیں۔
ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
اور یہ بہت سے گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2887]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:17
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرو، کیونکہ ان دونوں کو آگے پیچھے کرنا زندگی میں اضافہ کرتا ہے غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔“۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:17]
فائدہ:
➊ اس حدیث میں حج و عمرہ مسلسل کرنے پر رغبت دلائی گئی ہے، اگر کسی نے عمرہ کیا ہے تو وہ حج کرے اور اگر کسی نے حج کیا تو وہ عمرہ کرے۔ عمرہ اور حج اگرچہ زندگی میں ایک بار فرض ہیں، لیکن اپنے مال کو حج اور عمرہ کے سفر میں خرچ کرنا بہت زیادہ اہمیت والا عمل ہے، لہٰذا پوری زندگی جب بھی موقع میسر آئے حج یا عمرہ کرتے رہنا چاہیے۔ بعض لوگ صرف عمرہ کرتے ہیں اور زندگی میں بہت زیادہ عمرے کرتے رہتے ہیں لیکن حج نہیں کرتے۔ یہ بات غلط ہے۔ جو کئی بار عمرے کر سکتا ہے، گویا اس کے پاس حج کی بھی طاقت ہے، تو وہ حج کے فرایضے کو اول فرصت میں ادا کرے۔
➋ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ حج و عمرہ کا خرچہ بھی اللہ تعالی کی راہ میں ہے۔ اس لیے اس سے بھی مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور فقر و فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
➌ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔ اس لیے اسے ”حج اصغر“ (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے اور یہ بہت گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
➊ اس حدیث میں حج و عمرہ مسلسل کرنے پر رغبت دلائی گئی ہے، اگر کسی نے عمرہ کیا ہے تو وہ حج کرے اور اگر کسی نے حج کیا تو وہ عمرہ کرے۔ عمرہ اور حج اگرچہ زندگی میں ایک بار فرض ہیں، لیکن اپنے مال کو حج اور عمرہ کے سفر میں خرچ کرنا بہت زیادہ اہمیت والا عمل ہے، لہٰذا پوری زندگی جب بھی موقع میسر آئے حج یا عمرہ کرتے رہنا چاہیے۔ بعض لوگ صرف عمرہ کرتے ہیں اور زندگی میں بہت زیادہ عمرے کرتے رہتے ہیں لیکن حج نہیں کرتے۔ یہ بات غلط ہے۔ جو کئی بار عمرے کر سکتا ہے، گویا اس کے پاس حج کی بھی طاقت ہے، تو وہ حج کے فرایضے کو اول فرصت میں ادا کرے۔
➋ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ حج و عمرہ کا خرچہ بھی اللہ تعالی کی راہ میں ہے۔ اس لیے اس سے بھی مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور فقر و فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
➌ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔ اس لیے اسے ”حج اصغر“ (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے اور یہ بہت گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 17]
حدیث نمبر: 2887M
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2887M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عامر العنزي ← عمر بن الخطاب العدوي